رانی کھیت / New Castle Disease
مرغیوں میں رانی کھیت کا مرض سب سے پہلے انڈیا میں رانی کھیت کے مقام پر دیکھنے میں آیا۔اس وجہ اس بیماری کو رانی کھیت کہتے ہیں۔ یہ مرغیوں کا شدید مہلک متعدی مرض ہے۔ جس کا سبب ایک وائرس ہے جو عام خورد بینوں ڈے نہیں دیکھا جا سکتا۔ یہ وائرس پرندوں کے نظام تنفس اور دماغ پر اثر انداز ہوتا ہے جس کی وجہ سے مرغیوں کو سانس لینے میں دشواری ہو تی ہے۔اور مرغیوں کا اعصابی نظام متاثر ہوتا ہے۔
بیماری پھیلنے کا طریقہ:
1- ایک فارم سے دوسرے فارم پر انڈے/ پرندے خریدنے والے تاجر اس بیماری کو پھیلا نے کا سبب بنتے ہیں۔
2- مرغیوں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کر نے والے ٹوکرے، کریٹ جن میں بیماری مرغیوں کو رکھ کر لے جایا گیا ہو وہ اس بیماری کا سبب بنتے ہیں۔
3- فارم پر بیمار اور تندرست پرندوں کو الگ نہ رکھنے پر بھی یہ بیماری تندرست پرندوں میں پھیل جاتی ہے۔
علامات:
اس قسم کا وائرس تین نظام پر اثر انداز ہوتا ہے۔
1- نظام تنفس
2- اعصابی نظام
3- نظام ہاضمہ
نظام تنفس میں کھانسی کا آنا، ہانپنا، سانس لیتے وقت خرخراہٹ کی آواز کا پیدا ہونا، ناک اور منہ سے لیسدار رطوبت کا خارج ہونا،آواز کا بیٹھ جانا اور بعض چوزوں میں آواز کا بلکل بند ہو جانا شامل ہوتا ہے۔
اعصابی نظام میں چوزوں پر رعشہ کے دورے پڑنا شروع ہو جاتے ہیں۔چوزوں میں غیر فطری حرکات کا پیدا ہونا مثلآ چکر کاٹنا ، پیچھے کی طرف ہٹنا ، کئی بار سر کے بل الٹ جانا، چال کے بل لڑکھڑاہٹ اور پٹھوں میں غیر ارادی تشنج کا پیدا ہونا، گردن کا پیچھے ایک طرف کو مڑ جانا، ایک یا دونوں ٹانگوں پر فالج کا گرنا وغیرہ شامل ہیں۔
تیسری علامت میں ہاضمہ کا نظام متاثر ہو تا ہے۔
مرغیوں کی بھوک ختم ہو جاتی ہے پیاس کی شدت بڑھ جاتی ہے اور پرندے خوراک کھانا بند کر دیتے ہیں۔ پرندوں کی بیٹ پتلی اور بدبودار اور سبز سفید رنگ کی ہوجاتی ہے.انڈے دینے والی مرغیاں انڈے دینا بند کر دیتی ہیں۔ کلغی اور کنٹھ نیلگوں ہو جاتے ہیں۔
مرض کی شناخت:
مرغیوں میں تنفسی علامات اسہال کی شکایات اور بعد میں اعصابی علامات کا ظاہر ہونا مرض کی تشخیص میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔
روک تھام:
وبا پیدا ہونے کی صورت میں صحت مند پرندوں کو فوراً بیمار پرندوں سے علیحدہ کر دیں۔
شدید بیمار پرندوں کو ذبح کر کے ان کے پروں انتڑیوں اور فضلات کو گہرے گڑھے میں دبا دینا چاہیے یا ان سب اشیاء کو جلا دینا چاہیے۔
کھانے پینے کے برتنوں اور انڈے دینے کے ڈبوں کو جراثیم کش ادویات سے صاف کر دیں۔
رانی کھیت کے وائرس کو سورج کی شعاعیں چار گھنٹے میں ختم کر دیتی ہیں اس کے علاوہ فارملین 22 فیصد پوٹاشیم پرمیگنیٹ (50000=1) اور کاربالک کے محلول بھی سس وائرس کو تلف کر دیتے ہیں۔
رانی کھیت کے ٹیکے اس طرح لگائیں:
10-8 دن کے چوزوں کی آنکھوں میں ایک ٹیکے والے ایمپیول (100 Doses ) میں 5 سی سی پانی ملا کر ڈراپر سے ایک قطرہ ایک پرندے کی آنکھ میں ڈالا جائے۔
ایک ماہ کے چوزوں کیلئے ایک ایمپیول (Doses =100 ) میں 50 سی سی ٹھنڈا پانی ملا کر ہر چوزے کو نصف سی سی بذریعہ سرنج بازوں میں زیر جلد یا سینے کے گوشت میں لگائیں۔
چار ماہ کی عمر میں ایک ایمپیول (100 Doses ) 100 سی سی ٹھنڈا پانی میں ملا کر بازوں میں ایک سی سی ٹیکہ لگائیں۔
1

About Author

Leave a Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published.